اندیشہ
۔۔۔۔۔۔
سنو، اے زندگی!
ٹھہرو،
وہ مجھ سے ملنے آیا ہے
مرے اندر بہت سی ان کہی پیاسی تمنائوں نے پھر سے سر اٹھایا ہے
کہیں یادوں کے ساحل پر پڑی کچھ سیپیوں کو میں نے کتنے پیار سے
چاہت کی ڈوری میں پرویا ہے
یہ ڈوری ٹوٹ نہ جائے
وہ مجھ سے روٹھ نہ جائے
مرے ہاتھوں سے دامن عشق کا پھر چھوٹ نہ جائے
دھنک رنگی فضائوں سے اترتی
دل دریچے پر صدا دیتی وہی مانوس سی آواز پہ دل کھنچتا جاتا ہے
کہیں وہ لوٹ نہ جائے
یہ سپنا ٹوٹ نہ جائے
سنو، اے زندگی! ٹھہرو
وہ مجھ سے ملنے آیا ہے
Related posts
-
صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اژدھا
اژدھا ۔۔۔۔ میں وہ نہیں صغیر، میں جو تھا بدل گیا یہ کیسی شکل ہے میں... -
نثار ترابی ۔۔۔ یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں)
یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں) ۔۔۔۔ اُڑان قاتل ہے یہ سفر... -
شائستہ رمضان ۔۔۔ نظم
نظم ۔۔۔ محبت رمز ہے گہری کبھی یہ فقر لگتی ہے صدائے کن کی چاہت میں...
